کامیابی کی شارٹ کٹ

کامیابی کی شارٹ کٹ۔

اپنی اوقات اور طاقت سے بڑی چھلانگ لگانے والے ہمیشہ ٹانگیں تڑوا کر معزوری کا شکار ہوجاتے ہیں۔۔۔
وقتی طور پر اگر کوئی شارٹ کٹ میں کامیاب بھی ہوجائے تو عموماً یہ کامیابی دائمی نہیں ہوتی۔۔۔
کیوں کہ انسان جب اپنی طاقت اور اوقات سے بڑھ کر کوئی بھی کام کرتا ہے, وقت سے قبل کوئی چیز حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو ٹھوکر اور مسائل اس کے راستے کی رکاؤٹ ضرور بنتے ہیں۔۔۔

قدرت اور فطرت کا قانون بہت منظم ہے۔

دنیا کی ہر چیز صدیوں سے اپنے مقرر وقت و مدار کے مطابق چل رہی ہے, غور کریں تو دنیا کی ہر چیز اپنے خاص انداز اور طریقہ سے انتہائی سلیقہ اور منظم انداز سے چل رہی ہے۔۔۔
قدرت کے کسی کام میں بدنظمی اور بے ترتیبی نہیں ہے۔۔۔
پودے سے درخت بننے تک کا سفر تین چار سال پر محیط ہوتا ہے۔۔۔
بچے کی پیدائش سے بولنے, رینگنے, گھسیٹنے, چلنے, دوڑنے, جوان ہونے تک کے ہر مرحلہ کے لئے مقرر وقت لگتا ہے۔۔۔
انسان دنیا کے دوسرے تمام معاملات میں فطرت اور قدرت کے قانون کے مطابق ہی چلتا ہے۔۔۔
لیکن کامیاب ہونے کے لئے, کامیابی کی منزل پر پہنچنے کے لئے شارٹ کٹ استعمال کرتا ہے۔۔۔
کامیابی کی عروج پر پہنچنے والا راستہ طویل اور کٹھن ہوتا ہے لیکن جیسے ہر مقام و منزل کا ایک لمبا مگر قدرے آسان اور دوسرا شارٹ کٹ مگر مشکل راستہ ہوتا ہے۔۔۔
انسان اگر باہمت پرجوش اور شوق والا ہو تو منزل مقصود پر بالآخر پہنچ ہی جاتا ہے۔۔۔
کامیابی کے عروج اور منزل مقصود پر پہنچنے کی شرط محنت, لگن, شوق, اور ہمت کے ساتھ مشروط ہے۔۔۔
محنت, لگن, شوق, طلب, اور مسلسل جدوجہد کے بعد انسان ایک نہ ایک دن منزلِ مقصود پر پہنچ ہی جاتا ہے۔۔۔
کسی بھی راستے کی شارٹ کٹ, طاقت و ہمت سے بڑھ کر اٹھنے والے قدم انسان کو ہمیشہ تکلیف و مصائب میں مبتلاء کرتے ہیں۔۔۔
راستہ کتنا ہی کٹھن, مشکل اور تکلیفوں سے بھرا ہوا کیوں نہ ہو اگر ہمت و جذبہ سے مسلسل جدوجہد جاری رہے تو منزلِ مقصود بلآخر ضرور ملتی ہے کامیابی قدم ضرور چومتی ہے۔۔

کامیابی کے دس اصول:

  • اگر کسی کو حوصلہ نہیں دے سکتے تو اس کی حوصلہ شکنی بھی مت کرو۔۔۔
  • اگر کسی کی ہمت بڑھا نہیں سکتے تو اس کی بندھی ہوئی ہمت بھی نہ توڑو۔۔۔
  • اگرکسی کو نفع اور فائدہ نہیں دے سکتے تو اسے نقصان بھی نہ دو۔۔۔
  • اگر کسی کو خوش نہیں کر سکتے تو اسے رنجیدہ اور دکھی بھی مت کرو۔۔۔
  • اگر کسی کی تعریف نہیں کر سکتے تو اس کی برائی بھی مت کرو۔۔۔
  • اگر کسی کو اچھا مشورہ نہیں دے سکتے تو اسے غلط مشورہ بھی مت دو۔۔۔
  • اگر کسی کی مدد نہیں کر سکتے تو اس کے لئے مشکلات بھی پیدا نہ کرو۔۔۔
  • اگر کسی کو سیدھا راستہ نہیں دکھا سکتے تو اسے غلط راستہ بھی مت بتاؤ۔۔۔
  • اگر کسی کوخوشی کی تھپکی نہیں دے سکتے اسے غم کا دھکا بھی مت دو۔۔۔
  • اگر کسی کوکامیاب نہیں بنا سکتے تو اسے ناکام بنانے کی جدوجہد بھی نہ کرو۔۔۔
جو شخص اپنے مستقبل اور فائدے کے لئے انویسٹمنٹ نہیں کر سکتا وہ کبھی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔۔۔
عموماً ہم لوگوں سےماہانہ کم سے کم 5،10 ہزارروپے بلکل فضول اور بے مقصدتو خرچ ہو ہی جاتے ہیں۔۔۔
موبائل پیکج/سگریٹ/ گٹکا/ نسوار/ پان/ اور دیگرچیزوں پر ماہانہ ہزاروں روپےخرچ ہوجاتے ہیں جب کہ ان چیزوں کا سوائے نقصان کے کوئی فائدہ نہیں۔۔۔
ہم نے کبھی سوچا کہ ہم ہزاروں روپے بلکل بے مقصد اور فضول میں خرچ کر دیتے ہیں اگر یہی رقم اپنے مستقبل اور کسی فائدے والی جگہ پر خرچ کر دیتے تو فائدہ ہوتا۔۔۔
اپنے آپ پر اور اپنے بچوں کے آنے والے مستقبل پر خرچ کرنے میں دریغ مت کریں کیوں کہ آج کی انویسٹمنٹ مستقبل میں آپ کو اور آپ کے بچوں کو ضرور فائدہ دے گی۔۔۔
کوئی ایک سکل سیکھیں جو کل آپ کو فائدہ دے گی اور اس کو سیکھنے میں جتنی مشکلات آئیں ان کو کل کی آنے والی خوشحالی کے لئے برداشت کریں۔۔۔
جو انسان ہزروں کی رقم بے مقصد اور فضول میں خرچ کرنے سے دریغ نہ کرے لیکن مقصد اور اپنے فائدے کے لئے خرچ کرنے میں سوچ و بچار کرے تو اس کا کوئی حل نہیں ہے۔۔۔
اپنے اور اپنی اولاد کے آنے والے کل کے لئے آج انویسٹ کریں ان شاء اللہ بہت فائدہ ہوگا۔۔۔
دکان دیر سے کھولو گے تو بہت سے گاہک کھو دو گے۔۔۔
مارکیٹ، گاؤں، دیہات میں جو بندہ جلدی دکان کھولتا ہے اس کے بارے میں زدِعام ہوتا ہےکہ اگر جلدی کوئی چیز چاہئے تو فلاں دکان لازمی کھلی ہوگی۔۔۔

آپ نے دیکھا ہوگا۔

کچھ دکانداروں کی سالوں سال سے ایک ہی روٹین ہوتی ہے کہ وہ صبح فجر سےپہلے یافوراً بعد دکان کی صفائی وغیرہ کر کے ، سامان کی سیٹنگ کر کے بیٹھ جاتے ہیں۔۔۔
دوسرے دکاندار جب تک دکانیں کھولتے ہیں اس وقت تک وہ دکانداران سےزیادہ بکری کر کےاگلے دن کی پلاننگ کر کےدوپہر کا کھانا وغیرہ کھا کرآرام سکون کرنے چلے جاتے ہیں۔۔۔
جو لوگ کاروبار کی کامیابی چاہتے ہیں یا زندگی کے عروج کے طالب ہوتے ہیں تووہ زندگی میں پہل کرتے ہیں کیو ں کہ ہر کام میں اول وقت کی بہت اہمیت ہوتی ہے جو پہل کرتا ہے اس کے پاس کامیابی کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں۔۔۔
جب دوسروں کواس کی ضرورت ہو، اس کے ہنر کی تلاش ہو اس وقت وہ دستیاب نہ ہو تواس کا متبادل تلاش کر کے کام کروایا جاتا ہے بعد میں وہ بندہ لاکھ کوشش کرے اپنی وقعت اور قابلیت سے بڑھ کرتگ و دوکرے لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔۔۔
اس لئے اگر اپنے ہنر اور قابلیت سے کامیابی حاصل کرنی ہے تو پھر ان لوگوں کا خیال کرنا ہوگا جن کو اس ہنر کی ضرورت ہے اور قابلیت کی قدر ہے ورنہ ایک وقت گزرجانے کے بعد افسوس اور پچھتاوا ہی ہوتا ہے کیوں اس کا متبادل انہیں مل چکا ہوتا ہے۔۔۔
جو پرندے صبح سویرے جاگتے ہیں انہیں تازہ رزق ملتا ہے وہ اپنا پیٹ بھر کے اپنی اولاد کے لئے بھی لاتے ہیں۔۔۔
اور جو پرندے رزق کی تلاش میں صبح والوں کا ساتھ نہیں دیتے ان کے نصیب میں باسی اور بچا کھچارزق ہوتا ہے۔۔۔
کہتے ہیں ”انسان کے سوادنیا کا ہر جاندار اپنے رزق کی تلاش میں صبح صادق کے وقت نکلتا ہے اور ہمیشہ پرسکون اور اطمینان سے رہتا ہے“۔

Leave a Comment