پردیس کی کہانی

ہمارے ہاں کوئی بندہ پردیس چلا جائے تو یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ پردیس جاتے ہی وہ جادو کروا کر سونے کے انڈے دینے والی مرغی بن گیا ہے۔۔۔
یا پردیس میں اس کےہاتھ الٰہ دین کا چراغ لگ گیا ہے کہ بس ہم اپنی فرمائشیں کرتے جائیں گے اور سب کچھ یوں چھومنتر ہماری فرمائش پوری کر دے گا۔۔۔
خاص کر جب کوئی بندہ امریکہ، یورپ، سعودی، دبئی چلا جائے تو اس پر لازم اور فرض ہوجاتا ہے کہ وہ پیچھے والوں کی ہر خواہش پورا کرے ورنہ عمر بھر کے طعنے اور ناراضگیاں مول لینی پڑتی ہیں۔۔۔
امریکہ، یورپ، سعودی، دبئی والوں سے قرض ایسے مانگا جاتا ہے جیسےویزا اس نے دلوایا تھا، اور وہ باہر ان کے پیسوں اور مدد سے گیا ہو۔۔۔
ہلا جی! اب میں نے فلاں کاروبار کرنا ہے، اپنا گھر بنانا ہے، فلاں چیز خریدنی ہے، فلاں کام پیش آگیا ہے، مجھے فلاں تاریخ تک اتنی رقم بھیج دینا یاد سے۔۔
اور قرض بھی کتنا پانچ چھ لاکھ سے نیچے تو بات ہی نہیں کی جاتی کہ جی تمہارے لئے کیا مشکل ہے تمہارے لئے تو دو تین ہزار ڈالر ہی ہیں جیسے پاکستان کے دو ڈھائی ہزار روپے ہوتے ہیں۔۔۔
اور باہر والوں سے قرض مانگا بھی اسی لئے جاتا ہے کہ کون سا وہ اپنی رقم لینے آجائے گا وہ صرف نام کا قرض ہوتا ہے ورنہ واپسی کا کوئی خاص ارادہ نہیں ہوتا۔۔۔
اکثر پردیسیوں کا یہی رونا ہوتا کہ جتنے لوگوں کو قرض یا ادھار کی مد میں رقم دی انہوں نے واپس نہیں کی اس لئے مایوس ہوکر شرم کے مارے مانگنے کے بجائے معاف ہی کرنی پڑی۔۔۔
اپنی عیاشیوں اور فضول خرچیوں کے لئے پردیسیوں کو اے ٹی ایم مشین سمجھ لیا جاتا ہے کہ یہ مسئلہ درپیش ہے، وہ چیز چاہئے، فلاں کام ہے اس کے لئے اتنی رقم بھیج دو شاباش۔۔۔
امریکہ، یورپ ،سعودیہ اور دبئی والوں کو باقاعدہ پابند کیا جاتا ہے کہ وہاں سے فلاں پرفیوم لانی ہے، فلاں مہنگی والی جینون گھڑی لانی ہے، لیٹیسٹ والا لیپ ٹاپ ہی لینا اور میرے لئے اتنی رقم الگ کر کے رکھ دیناورنہ اچھا نہیں ہوگا۔۔۔
وہ تو بھلا ہو پی ٹی اے کا کہ اس نے موبائلز کی درآمد پر بھاری ٹیکس لگا دیاورنہ پہلے تو آئی فون اور سامسنگ کے لیٹیسٹ ڈیڑھ دو لاکھ والے موبائل سے نیچے بات نہیں کی جاتی تھی۔۔۔
دور پار کےجتنے رشتہ داروں کی طرف سے موبائلز کی فرمائش ہوتی تھی اتنی تو شائد کمپنی بھی اس ملک میں امپورٹ نہیں کرتی ہوگی۔۔۔
جس بندے نے کبھی پاکستان رہتے ہوئے سیدھے منہ سلام تک نہیں کیا ہوتا وہ اس طرح رشتے پالنے لگتا ہے جیسے سب سے زیادہ سگا یہی بندہ ہو۔۔۔
جس نے پاکستان رہتے ہوئے کبھی سامنے حال احوال نہ پوچھا ہو وہ فون پر روزانہ گڈمارننگ اور شام کو گڈ ایوننگ کرتا ہے کہ سب سے زیادہ فکر مند یہی ہے۔۔۔
یورپ امریکہ والوں سے رشتے جوڑنے کی سرتوڑ کوشش کی جاتی ہے خاص کر اگر یورپ میں مقیم کسی اپنے دور پار کے رشتہ دار کی بیٹی تو ہاتھ دھو کر اس رشتے کے لئے کوشش کی جاتی ہے کہ بیٹا سیٹل ہوجائے گا مزے کرے گا۔۔۔
____________________
لیکن
کیا کوئی سوچتا ہے کہ پردیسی میں مزدوری کرنے والے کتنی محنت مشقت سے پیسے کماتے ہیں۔۔۔؟ یورپ و امریکہ میں رہنا،وہاں اپنے بچوں کو حلال سے بچے پالنا کوئی آسان کام نظر آتا ہے۔۔۔؟
یورپ و امریکہ اور دیگر ممالک میں جہاں پیسے زیادہ کمائے جاتے ہیں وہیں اتنی زیادہ محنت بھی کرنی پڑتی ہے۔۔۔
یہاں اگر 8 گھنٹے کام کر لیا جائے تو گھر کا کچن چل جاتا ہے، گزارہ ہوجاتا ہے لیکن یورپ و امریکہ میں ٹیکسس بھر بھر کے، گھر کا رینٹ، بچوں کی تربیت، بچوں کو مہنگی تعلیم اور حلال کھلا نے کے لئے لوگ 16،16 گھنٹے کی جان توڑ محنت کرتے ہیں۔۔۔
یورپ و امریکہ کے لوگ ڈبل ڈبل شفٹیں لگا کر بھی پوری نہیں کر پاتے، وہاں کی لائف جتنی لگزری ہے اسی کے مطابق خرچے بھی ہوتے ہیں۔۔۔ مثال کے طور پر ایک عام متوسط فیملی کو امریکہ میں رہنے کے لئے تمام لوازمات کے ساتھ کم سے کم 5،6 ہزار ڈالر چاہئیں، مطلب کہ پاکستانی تقریباً 12،13 لاکھ روپے۔۔۔ اور وہاں لوگ ٹیکسیاں چلا کر، فیکٹریوں میں کام کر کے، پارٹ ٹائم ویٹری کر کے،ہوٹلوں میں کام کر کے، گاڑیاں دھو کر بھی بمشکل پوری کر پاتے ہیں۔۔۔
____________________
اسی طرح سعودیہ، دبئی، عمان، قطر وغیرہ میں جانے والوں کے ساتھ اس سے بھی زیادہ سخت حالات ہوتے ہیں۔۔۔
عرب ممالک کی گرمی اور سردی یہاں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔۔۔ دور دراز تپتے ریگستانوں میں، عمارتوں کی تعمیر میں تپتی دھوپ اور جان لیوا گرمی میں محنت کرتے ہیں۔۔۔
کم سے کم 12،13 گھنٹے کام کریں تو پھر جا کر کہیں پردیسی کاٹی جاتی ہے، اسی میں اپنا گزر بسر بھی کرنا ہے اور پیچھے والوں کو بھی بھیجنا ہے۔۔۔
یہاں ماؤں کے لاڈلے جب مزدوری کے لئے نکلتے ہیں تو وہاں جا کر پتہ چلتا ہے کہ کیا بھاؤ تاؤ ہے۔۔۔
جس نے یہاں کبھی ککھ نہیں توڑا ہوتا، کبھی وزن نہیں اٹھایا ہوتا اسے جب وہاں کنکریٹ کے بھاری بلاک اٹھانے پڑتے ہیں، سخت پتھر توڑنے پڑتے ہیں تو لگ پتہ جاتا ہے، بھاری بھرکم سامان اٹھانا پڑتا ہے تو پھر پتہ چلتا ہے کہ کمانا کتنا مشکل ہے۔۔۔
کبھی عرب ممالک کے پردیسیوں کی حالت دیکھی ہے۔۔۔ ایک ایک ڈیرے میں 15،20 بندوں کا گزارہ کرنا، روکھی سوکھی کھا کر بچت کرنا، اضافی فضول خرچی سے بچنا۔۔۔ کفیلوں کے پیٹ کا جہنم الگ سے بھرنا، ہر ماہ پابندی سے گھر رقم بھیجنا، غمی خوشی، بیماری میں الگ سے رقم بھیجنا، اور پھر وہاں کے اپنے اخراجات کو بھی پورا کرنا۔۔۔
پردیس جا کر سخت جان توڑ محنت کرنے کے بعد جا کر کہیں گھر کا چولہا جلتا ہے، پردیسی کاٹی جاتی ہے۔۔۔ ورنہ عموماً فضول خرچ یا کام چور بندہ پردیس میں زیادہ ٹک نہیں پاتا کسی بہانے واپسی کی راہ لیتا ہے۔۔۔
____________________
خداکے بندو!
ایک بندہ پردیس اپنے بچوں کے لئے کمانے گیا ہے، اپنے لئے آسانیاں پیدا کرنے گیا ہے۔۔۔ یا تمہارے لئے کمانے گیا ہے، تمہاری ضروریات پورا کرنے کے لئے گیا ہے۔۔۔
پردیس میں ڈبل ڈبل شفٹیں لگا کر محنت مزدوری کر کے بمشکل وہ اپنا گھر چلا رہا ہے۔۔۔ وہ اپنے بچوں کو پالے یا تمہاری ساری خواہشات کو پورا کرتا رہے۔۔۔
اگر اتنی ہی ضرورت ہے تو تم بھی 4،6 لاکھ روپے لگا کر پردیس چلے جاؤ۔۔۔اپنی ساری ساری خواہشات پوری کرنی ہیں تو تم بھی پردیس جاؤ۔۔۔ وہ محنت مزدوری کر کےاچھا کما سکتا ہے تو تم نہیں کما سکتے کیا۔۔۔؟؟؟
ہر انسان کو اپنی ضروریات کے لئے خود محنت کرنی چاہئے۔۔۔ اپنی خواہشات پوری کرنے کے لئے خود ہی محنت کرنی چاہئے۔۔۔ اس طرح پردیسیوں سے اور کمانے والوں سے امیدیں لگانا، انہیں مجبور کرنا، تنگ کرنا غیر مناسب ہے اور اگر وہ نہ کر سکیں تو پھر ناراض ہونا اچھی بات نہیں ہے۔۔۔
____________________
ایک گزارش بھی ہے
جو ترقی یافتہ ممالک میں احباب ہیں اگر اللہ نے انہیں وسعت دی ہے تو اپنے گھر، بھائی، گاؤں،قریبی رشتہ داروں اور دوستوں وغیرہ کو جو واقعی ضرورت مند ہوں، حالات اچھے نہ ہوں ان کے ساتھ چپکے سے مدد کر لیا کریں۔۔۔ آس پاس بہت سے ایسے غریب، مستحق، سفید پوش ہوتے ہیں جن کی بچیوں کی شادیاں ہوتی ہیں، کوئی حادثہ ہوجاتا ہے ایسے لوگوں کے ساتھ ضرور مدد کرنی چاہئے۔۔۔ آپ کا پیسہ جائز اور حق جگہ پر لگے تو تکلیف بھی نہیں ہوگی اور اجر الگ سے ملے گا۔

Leave a Comment