زندگی کے چار اصول

بدگمانی کرنا گاہک کا حق ہوتا ہے ۔۔۔
اور مطمئن کرنادکاندار کا حق بنتا ہے ۔۔۔
گاہک کوئی چیز رقم دے کر خریدتا ہے تو اس کا حق ہوتا ہے کہ وہ شک کرے، بدگمانی کرے، اپنے تحفظات کا اظہار کرے اور سوال کرے۔۔۔
اگر کاروباری بندہ کسٹمر کے تحفظات کا اظہار کرنے پر غصہ کرے، سیدھے منہ سوال کا جواب نہ دے اور مطمئن نہ کر سکے تو دل سگنل دیتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔۔۔
اپنی چیز کی تعریف ہر کاروباری کرتا ہے کہ اس کی چیز بہتر ہے لیکن واقعتاً اچھی چیز والا کاروباری ہر لحاظ سے مطمئن کرے گا، تحفظات دو ر کرے گا کیوں کہ اصول یہی ہے کہ مطمئن کرنے والا کاروباری کامیاب بھی ہوتا ہے اور اپنا اعتماد بھی بحال رکھتا ہے۔۔۔
اس کے برعکس کسی کاروباری بندے کے دعوے آسمان سے باتیں کریں لیکن سوال کرنے پر سیخ پا ہوجائے یا سیدھے منہ جواب نہ دے تو بہت جلد وہ اپنا اعتماد کھو دیتا ہے اور کاروبار بھی تباہ کر دیتا ہے۔۔۔
گاہک کی مثال نعمت جیسی ہے کیوں کہ اسی کی بدولت روزی روٹی حاصل ہوتی ہے اور گاہک مہمان جیسا ہوتا ہے اب اگر کوئی نعمت کی قدر نہ کرے یا گھر آئےمہمان کو ناراض کرے تو وہ نہ تو کامیاب ہوسکتا ہے اور نہ ہی خوش رہ سکتا ہے۔۔۔

جہدِ مسلسل۔۔۔ عہدِ مسلسل
کوئی بھی کام شروع کرنے سے قبل۔۔۔ کامیابی کے راستے پر چلتے ہوئے۔۔۔ بلندیوں کی جانب عازمِ سفر ہوں تو جہدِ مسلسل کے ساتھ بار بار عہدِ مسلسل بھی کرنا پڑتا ہے۔۔۔
منزل کی مسافت طے کرتے ہوئے راستے کی مشکلات اور تکلیفات سے قدم ڈگمگانے لگتے ہیں۔۔۔ ہمت جواب دینے لگتی ہے۔۔۔ لیکن اپنے آپ سے عہدِ مسلسل کرتے رہنے سے ہمت پیدا ہوتی ہے اور عزم میں جان آتی ہے۔۔۔
جہد کے ساتھ عہد ہونا ضروری ہے نہ تو اکیلے جہد کے ساتھ کام بنتا ہے اور نہ ہی خالی عہد کام آتی ہے۔۔۔ جہد اور عہد دونوں لازم ملزوم ہیں کسی بھی منزل پر پہنچنے کے لئے مسلسل جدوجہد کے ساتھ ساتھ مسلسل عہد بہت ضروری ہے۔۔۔

کسی بے روزگار کو روزگار دلاکر اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے سے بڑھ کر کوئی خیر کا عمل نہیں۔۔۔
کسی کے لئے مستقل آمدن اور انکم کا بندوبست کرنے سے زیادہ بہتر معاونت کوئی نہیں۔۔۔
کسی لاچار اور مجبور کی بنیادی ضروریات ِزندگی پورا کردینے سے بڑی کوئی ہمدردی نہیں۔۔۔
کسی کی مشکلات میں گھری زندگی میں آسانیاں پیدا کرنے سے بڑھ کر کوئی نیکی نہیں۔۔۔
کسی مایوس اور غم کے مارے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دینے سے بڑھ کر کوئی صدقہ نہیں۔۔۔
کسی بھوکےمحتاج کو من پسندکھاناپیٹ بھر کر کھلانے سےبڑھ کر کوئی اجر والا کام نہیں۔۔۔
کسی مجبورپریشان حال کو قرض حسنہ دے کر آسانی پیدا کرنے سے زیادہ احسن عمل کوئی نہیں۔۔۔
ہرن شیر سے زیادہ تیز رفتار ہوتی ہے
لیکن پھر بھی وہ شیر کا شکار ہوجاتی ہے
کیوں کہ وہ بار بار پیچھے مُڑ کر دیکھتی رہتی ہے کہ شیر کہاں تک پہنچا
ایسا کرنے سے اس کی رفتار کم ہوجاتی ہے اور بالآخر شیر اسے دبوچ لیتا ہے۔۔۔
بالکل اسی طرح جب ہم زندگی کے سفر پر رواں دواں ہوں تو بار بار ماضی کو دیکھنے سے، بار بار گزرے ایام کی تلخیوں کو سوچنے کی وجہ سے ہم آگے والے سفر میں سست ہوجاتے ہیں اور سوائے نقصان کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔۔۔
اگر زندگی کے سفر میں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر اپنی تمام تر توجہ، توانائی اور صلاحیت آگے والے سفر پر رکھی جائی تو کامیابی کی معراج پر پہنچنا سہل ہوجاتا ہے۔۔۔

اپنے مخالف اور اپنے حاسد کے لئے دل سے دعا کریں گے تو سینے کا غبار اور دل کا میل ایسے اتر جائے گا جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔۔۔
اپنے سب سے بڑے مخالف اور بغض رکھنے والے کا باقاعدہ نام لے کر ایک بار دعا کر کے دیکھیں دل سے میل دھل جائے گا۔۔۔
دعا کی اصل لذت اور قبولیت کی تسکین تب حاصل ہوتی ہے جب دوسروں کو بغیر کسی لالچ کے صدقِ دل سے دعائیں دی جائیں۔۔۔
کسی کو پیٹھ پیچھے دعا دے کر دیکھیں، اپنی دعاؤں میں کیسی لذت اور سرور حاصل ہوگا جس کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔۔۔
اپنے نصیب پر ہر حال میں خوش رہیں, اپنے مقدر پر راضی رہیں اور دوسروں کے لئے آسانیاں پیدا کرتے ہوئے زندگی انجوائے کریں۔۔۔

2 thoughts on “زندگی کے چار اصول”

Leave a Comment