بیروزگاری ۔۔۔یا۔۔۔ ہڈحرامی

میرے ایک عزیز دوست ہیں انہوں نے کہا کہ ان کا ایک بھتیجا ہے بیروزگار ہے اس کے گھر کے حالات کافی خراب ہیں اس کو کام سکھانا ہے اپنے ساتھ کام پر لگائیں۔۔۔
انہوں نے لڑکے کے گھر کےتشویش ناک حالات بتائے تومیں نے فوراً حامی بھری کہ ابھی ہی اسے بھیج دیں چار پانچ ماہ میں سکل سیکھ کر کمانے کے لائق ہوجائے گا ان شاء اللہ۔۔۔
دوست نے کہا کہ اگر یہ اس فیلڈ میں سنجیدگی دکھائے تو میں 80،90 ہزار تک کا لیپ ٹاپ بھی لے کر دوں گا انہوں نے دو دن بعد اپنے بھتیجے کو میرے پاس بھیج دیا اپنے ساتھ رہائش کھانے پینے کا انتظام کیا ۔۔۔
25 سال کے اس لڑکے کا سٹائل، چال ڈھال، اور کسی طرح بھی نہیں لگ رہا تھا کہ یہ کسی غریب اور ضرورت مند گھرانے کا لڑکا ہے۔۔۔
بہترین برینڈیڈ لباس، مہنگی گھڑی، جوتا اور چال ڈھال سے وہ کسی امیر گھرانے کا چشم و چراغ لگتا تھا۔۔۔
اس کے پاس 2 عدد اچھے والے سمارٹ فون تھے ایک اوپو رینو 5 اور دوسرا ریئل می کا کوئی موبائل تھا۔۔۔
میں نے دیکھا کہ وہ مسلسل پب جی پر گیم کھیل رہا تھا گیم کھیلتے ہوئے اس کی ہدایات اور اپنی ٹیم کے ساتھ کنوریسیشن دیکھی ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی واقعی کرنل لیول کا کمانڈو ہے۔۔۔
ٹک ٹاک پر اس کا اکاؤنٹ اوریڈیوز دیکھی اس کی ایکشن اور سٹائلش سے بھرپورویڈیوز دیکھ کر یقین ہی نہیں آیا کہ یہ واقعی یہی لڑکا ہے ۔۔۔
میں نے 3 دن اس کا جائزہ لیا تقریبا 7،8گھنٹے سونے کے علاوہ 13،14 گھنٹے گیم اور ٹک ٹاک پر ضائع کر رہا تھا۔۔۔
3 دن بعد اس کے ساتھ بیٹھے گپ شپ ہوئی میں نے پوچھا کہ آپ پب جی کب سے کھیل رہے ہیں اس نے بتایا کہ 3 سال سے اور وہ پرو لیول پب جی گیمر ہے۔۔۔
میں نے دوسرا سوال کیا کہ اس پر کتنا نیٹ استعمال ہوتا ہے اس نے بتایا کہ جاز کا ہفتے والا 25 جی بی کا پیکج کرتا ہوں جس کی قیمت 300 سے زیادہ ہے ہر دو دن بعد دوسرا پیکج لگانا پڑتا ہے۔۔۔
تو یہ نیٹ پیکج کے پیسے کہا سے آتے ہیں اس نے بتایا کہ والد، والدہ اور بہنوں سے لیتا ہوں۔۔۔
میں نے حساب لگایا تو اس کے پاس کم سے کم ایک لاکھ مالیت سے زائدکے دو موبائل تھے۔۔۔ ہر ماہ کم سے 4،5 ہزار کا تو صرف انٹرنیٹ استعمال ہوتا ہے۔۔۔ اس کے علاوہ اس کی چال ڈھال سٹائل کا تخمینہ لگایا تو اندازاً 15،20 ہزار روپے تو اس کا بھی خرچہ تھا۔۔۔
خیر لڑکے کو بیسک کمپیوٹر اچھے سے آتا تھا، مائیکروسافٹ وغیرہ سیکھا ہوا تھا میں نے ایک عدد لیپ ٹاپ اس کے حوالے کیا چند ویڈیوز ڈال کر دیں کہ اس کو دیکھیں اور پریکٹس کریں جو بات سمجھ نہ آئے پوچھیں۔۔۔
ایک ڈیڑھ گھنٹہ روزانہ کا اسے پرسنل دینا چاہا مگر وہ مسلسل نظرانداز کر رہا تھا اور پریکٹس یا کام سیکھنے میں اس کی دلچسپی اور محنت زیرو تھی۔۔۔
ایک ہفتہ گزرنے کے بعد اندازا ہوگیا کہ ذہنی طور پر یہ لڑکا کسی طور پر بھی تیار نہیں پب جی اور ٹک ٹاک کی وجہ سے اس کا دل لگ ہی نہیں رہا کسی اور کام میں۔۔۔ کافی سمجھانےکے بعد اس پر کسی قسم کی نصیحت اور بات نے اثر نہیں کیامیں نے دوست کو تمام تفصیلات سے آگاہ کیااور ایک ہفتے بعد اسے والد نے واپس بلا لیا۔۔۔
اس لڑکے کےوالد نے سعودیہ میں پچیس، چھبیس سال مزدوری کی، پھر کسی بات پر کفیل کے ساتھ لڑائی ہوگئی، کفیل کو زخمی کیا اور کیس بن گیا، اچھے خاصے پیسے لگ گئے اور حکومت نے بھی سعودیہ سے نکال دیا کچھ عرصہ تو جیسے تیسے کر کے گھر کے حالات چلتے رہے پھر والد نے ایک جگہ چوکیداری کی نوکری شروع کی، والدہ ایک سکول میں نوکری کر رہی ہے اور بہنیں پڑھائی کے ساتھ ساتھ کام کاج کر کے گھر کا چولہا جلا رہی ہیں۔۔۔
لیکن یہ مرد اورگھر کا واحد کفیل ہے مگر اس کونہ تو کسی چیز کی فکر ہے اور نہ ہی اس کو احساس ہے۔۔۔ کئی جگہوں پر اس کو نوکری پر لگوایا مگر دو دن سے زیادہ کہیں نہیں ٹکتا بہت زیادہ سمجھانے بجھانے کے باوجود بھی اس پر اثر نہیں ہوتا۔۔۔ گھر والوں کے بار بار سمجھانے کے باوجود بھی ٹس سے مس نہیں ہوتا۔۔۔
گھر میں غریبی اور قرضے میں ڈوبے ہوئےہیں مگر اس لڑکے کے سٹائل اور رہن سہن کا اپنا سٹائل ہے۔۔۔ اس کو کسی کی فکر نہیں بس اپنی ذات میں مست ہے۔۔۔
ایک طرف سے والد مقروض ہے گھر کے حالات تشویش ناک حد تک مایوس کن ہیں مگر اس کے پاس مہنگے موبائل، لباس، اورامیروں جیسا رہن سہن ہے۔۔۔
کوئی خواہش پوری نہ ہو تو دھمکیاں دیتا ہے مجبوراً والدہ اور بہنیں لاڈلے بھائی کی ہر جائز و ناجائز خواہش کو پوری کرتی ہیں۔۔۔
ــــــــــــــــــــ
ہمارے ہاں اکثر لوگ پردیس میں نوکری کے لئے جاتے ہیں سعودیہ، دبئی، کویت، یورپ وغیرہ میں سخت محنت مزدوری کرتے ہیں۔۔۔ اوسطاً یہ لوگ پردیس میں 20،25 سال لگا دیتے ہیں۔۔۔ بہترین مستقبل کے لئے ڈبل ڈبل ڈیوٹیاں کرتے ہیں سخت سے سخت مزدوری کرتے ہیں کہ اچھا گھر بن جائے، اولاد اچھا پڑھ لکھ لے، اور ان کا اچھا مستقبل بن جائے مگرزیادہ تر والدین کی مراد اور امید پوری نہیں ہوتی۔۔۔کیوں کہ اولاد باپ کے سایہ اور تربیت کے بغیر ہی پروان چڑھتی ہے۔۔۔ والدہ کب تک پیچھے بھاگےاور کیسے نگرانی کرے۔۔۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اکثر ایسے والدین کی اولاد انتہائی بے کار اور ناکارہ ہوجاتی ہے۔۔۔ان کی ہر خواہش پوری کرتے ہیں۔۔۔ ان کو شہزادوں کی طرح پالتے ہیں۔۔۔ دنیا کی ہر نعمت ان کو مہیا کرتے ہیں۔۔۔تعلیم کے لئے بہتر سے بہتر سکول و کالج کا انتخاب کرتے ہیں تاکہ بچے اچھا پڑھ لکھ لیں۔۔۔
چونکہ والد کی سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے باپ کی نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے اکثر اولاد انتہائی خراب ہوجاتی ہے۔۔۔ اولاد کو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی ہر چیز تو باپ نے پیدا کر کے دینی ہے۔۔۔ ہر طرح کی عیاشی باپ نے مہیا کرنی ہے۔۔۔ ایسی اولاد کو کسی قسم کی فکر تو ہوتی نہیں کیوں کہ ان کو معلوم ہے پردیس میں باپ کا بنک کھلا ہوا ہے اس کے پاس پردیس میں پیسوں کا درخت موجود ہے جس چیز کی ضرورت ہوگی باپ درخت سے پیسے اتار کر بھیج دے گا۔۔۔ ایسی اولاد والدین کے پیسوں سے خوب عیاشی کرتی ہیں۔۔۔ اور یہی عیاشی ان کی عادت بن جاتی ہے۔۔۔ اور عموماً ایسی اولاد کسی کام کی نہیں رہتی۔۔۔
والدین سے گزارش ہے کہ اپنی اولاد کو کوئی ہنر یا کام ضرور سکھائیں۔۔۔ آپ کے جیسے بھی حالات ہیں جتنی بھی خوشحالی ہو مگر اولاد کو ہنر مند بنائیں۔۔۔ ان کو کام کی عادت ڈالیں۔۔۔ محنت کی عظمت سے ضرور آگاہ کریں۔۔۔
آپ کی اولاد ہی آپ کا سرمایہ ہے اور اولاد کی بہترین ترتیب والدین کے لئے بہترین مستقبل کی ضامن ہوتی ہے۔

Leave a Comment