بیروزگاری کی آزمائش

اگر آپ بیروزگاری کی آزمائش و عذاب سے گزر رہے ہیں

تو پریشان مت ہوں۔آپ معاشی پریشانیوں میں گھرے ہوئے ہیں مجبوری میں قلت تنخواہ کی وجہ سے حالات سے نبردآزما ہیں تو فکر مت کریں۔۔۔آپ امام مسجد یا مدرس ہیں لیکن آپ کی تنخواہ ناکافی ہے, آپ ڈگری ہولڈر ہیں لیکن بیرزوگاری اور نوکری نہ ہونے کی وجہ سے پریشان ہیں تو آپ کو پریشان ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں بس آپ کو چند اقدامات کرنے ہوں گے ان شاء اللہ العزیز بہت جلد آپ کے لئے حالات خوشحالی کی نوید سنائیں گے سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔

ہم لوگ حالات کی وجہ سے بہت جلد پریشان ہوجاتے ہیں, ہماری صلاحیتیں اور قابلیت دب جاتی ہے, کچھ سوچنے سمجھنے کی پوزیشن باقی نہیں رہتی۔۔۔
گھر والوں کا دباؤ, معاشرے کی باتیں, آس پاس کے لوگوں کے طعنے انسان کو کچھ سوچنے سمجھنے اور فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں چھوڑتے۔۔۔
انسان ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اندر اندر سے پگھل رہا ہوتا ہے پریشانیاں مزید بڑھتی جاتی ہیں۔۔۔
مجبوراً کیا ہوتا ہے کہ حالات و معاملات کی وجہ سے ایک پڑھا لکھا ذہین و فطین اور قابل انسان انتہائی کم اجرت میں کام کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔۔۔
اگر آپ ایسے حالات سے گزر رہے ہیں تو آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں بس آپ کو سنجیدگی سے پلاننگ کرنی ہوگی, آپ کو اپنا محاسبہ کرنا ہوگا, تنہائی میں بیٹھ کر اپنی ذات پر فوکس کر کے آپ کو ترتیب بنانی ہوگی, اپنی صلاحیتیوں, قابلیت اور تعلیم کے مطابق بھرپور قسم کی پلاننگ کرنی ہوگی۔۔۔

آپ بیروزگار ہیں

لیکن نوکری کی تلاش میں ہیں تو ضروری نہیں کہ آپ نوکری ملنے کی آس پر اپنا بہت سا وقت ضائع کر دیں۔۔۔
آپ قابل اور باصلاحیت ہیں تو ضروری نہیں کہ فی الفور اپنی قابلیت اور صلاحیت کے مطابق جگہ اور کام ملنے کی آرزو میں وقت لگا دیں۔۔۔
آپ بہت کچھ کر سکتے ہیں لیکن آپ چاہتے ہیں کہ فوراً کوئی سبب بن جائے کہ آپ اپنے خوابوں کو پورا کر لیں۔۔۔
لیکن ایسا نہیں ہوتا۔۔۔
انسان کو پہلا قدم خود اٹھانا ہوتا ہے۔۔۔ تعمیر کی پہلی اینٹ خود رکھنی ہوتی ہے۔۔۔ جو کچھ موجود ہے اسی سے شروعات کرنی پڑتی ہے۔۔۔
انسان کو اپنے بل بوتے پر کھڑا ہونے کے لئے وقت تو لگتا ہے لیکن یاد رکھیں جو لوگ بغیر کسی سہارے کے اپنے دم پر کھڑے ہوتے ہیں وہ کبھی گرتے نہیں۔۔۔
بچہ پہلا قدم خود اٹھاتا ہے تو پھر اس کا ہاتھ پکڑ ساتھ چلنے والے سینکڑوں مل ہی جاتے ہیں۔۔۔

سب سے پہلے تو آپ یہ سوچیں

کہ آپ کو شوق کس چیز کا ہے, آپ بہتر طریقے سے کون سا کام کر سکیں گے, آپ کو اپنے لئے کیا بہتر لگتا ہے کہ آپ احسن طریقے سے وہ کام کر سکیں۔۔۔
چونکہ اللہ رب العزت نے ہر انسان کو الگ الگ صلاحیتوں سے نوازا ہوتا ہے, ہر بندے میں الگ اور منفرد کوالٹی رکھی ہوتی ہے۔۔۔
اس لئے ہر بندے کے لئے ایک جیسا سلیبس اور ایک جیسا مشورہ نہیں ہوتا۔۔۔
ہر بندہ اپنی الگ کوالٹیز اور انفرادیت کی وجہ سے دوسروں مختلف سوچتا سمجھتا ہے اور الگ دنیا بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔۔۔
اس لئے اپنے حالات و معاملات کو دیکھیں اور اسی کے مطابق فیصلہ کریں۔۔۔
سب سے پہلے اپنی موجودہ صورت حال کا جائزہ لیں۔۔۔ آپ کے پاس جو موجود ہے اس کا حساب لگائیں۔۔۔ اپنی قابلیت اور صلاحیت کے مطابق اپنے لئے پلاننگ کریں اور کسی ایک کام پر فوکس کر کے شروعات کر دیں۔۔۔
آپ کسی بھی فیلڈ سے وابستہ ہیں اور آپ کے پاس فارغ اوقات ہیں تو آپ بہت سارے کام کر سکتے ہیں۔۔۔

آپ پڑھے لکھے ہیں تو آپ کوئی اچھی سکل سیکھ لیں۔

آپ کے آس پاس سینکڑوں آئیڈیاز, بے شمار کام آپ کے منتظر ہیں۔۔۔
آپ بہت کچھ کر سکتے ہیں بس آپ کو حوصلے اور ہمت و شوق کے ساتھ کام کہ شروعات کرنی ہوگی۔۔۔
دنیا جس تیزی کے ساتھ ڈیجیٹلائز ہورہی ہے اتنا ہی قابل لوگوں کے لئے سکوپ بڑھتا جا رہا ہے, سکل ہولڈرز کی مانگ میں اتنا ہی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔۔۔
آپ قابل اور باصلاحیت ہیں ڈیجیٹل فیلڈ کا شوق ہے تو یہ کام آپ کی زندگی بدل سکتا ہے۔۔۔
آپ کا ڈیجیٹل مائنڈ ہے تو آپ کوئی بھی سکل سیکھ کر اپنا شاندار مستقبل بنا سکتے ہیں۔۔۔
آپ کوئی سکل نہیں سیکھنا چاہتے یا آپ کو یہ فیلڈ سمجھ نہیں آتی تو پھر آپ کے پاس موجودہ جتنا سرمایہ ہے اسی سے کام کی شروعات کر دیں۔۔۔
جو چیز موجود ہے اس کی قدر کریں
جتنا موجود ہے اسی پر صبر و شکر قناعت کر کے بسم اللہ کر دیں۔۔۔
یہ مت دیکھیں کہ دوسرے کیا کر رہے ہیں۔۔۔ میں جو کر رہا ہوں اسے دیکھنے والے کیا کہیں گے۔۔۔ میرے کام کے متعلق لوگ کیا باتیں کریں گے۔۔۔
بس اپنے آپ کو دیکھیں۔۔۔ اپنے حالات کو مدنظر رکھیں۔۔۔ اپنے گھر کی فکر کریں۔۔۔
محنت لگن شوق سے کسی بھی کام کی ابتداء کر لیں ان شاء اللہ العزیز اللہ رب العزت آپ کی مدد و نصرت کرے گا۔۔۔

Leave a Comment