بزنس میں حسد اور ضد

بزنس میں حسد اور ضد

کچھ لوگ اتنے بے مروت اور کم ظرف ہوتے ہیں کہ جو کام وہ کر رہے ہیں کوئی دوسرا بندہ وہی کام شروع کر لے تو وہ یہ سمجھنا شروع کر دیتے ہیں کہ دوسرا بندہ ان کے نصیب اور حصے کا رزق کھا جائے گا۔۔۔
ایسے کم ظرف لوگ اس بندے کے خلاف مورچہ بندی کر کےاپنی تمام تر توجہ، اپنی صلاحیتیں اس کی مارکیٹ کو خراب کرنے میں لگا دیتے ہیں۔۔۔
حالانکہ اگر وہ جتنی محنت اور صلاحیت مخالف کی مارکیٹ خراب کرنے میں لگاتے ہیں اس کی آدھی محنت بھی اپنی مارکیٹنگ میں لگائیں، اپنے برینڈ کو پرموٹ کریں، باقاعدہ یونیک مارکیٹنگ کریں تو ڈبل فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔۔۔
آج کل چونکہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور فیس بک مارکیٹنگ کا دور دورا ہے
اپنی دوسری فیک آئی ڈیوں سے غلط کمنٹ کریں گے, لوگوں کو ورغلائیں گے۔۔۔ اس بندے کی چیز میں کیڑے نکالیں گے۔۔۔اس کی مارکیٹ خراب کرنے کے لئے کسٹمرز کو خراب ریٹ دیں گے۔۔۔
وہ بندہ اپنی سوغات کی پوسٹ لگائے گا تو اس کے کمنٹ میں دوسری فیک آئی ڈیوں سے اور اور اپنے یار دوستوں کو اس سازش میں شریک کر کے کمنٹ کروائیں گے۔۔۔
مجبورا جس بندے نے محنت, شوق سے اور جذبے سے کام شروع کیا ہوتا ہے وہ یہ منافقت برداشت نہیں کر پاتا اور پھر چند دن بعد کام کو خیرباد کہ دیتا ہے۔۔۔

یاد رکھیں

آپ کا نصیب کوئی دوسرا بندہ نہیں کھا سکتا, آپ کا نصیب آپ کو ہی نصیب ہوگا, اللہ نے جو آپ کے مقدر میں لکھا ہے وہ کسی اور کو کبھی نہیں مل سکتا۔۔۔
لہذا اللہ سے رزق میں برکت مانگیں۔۔۔ اپنے نصیب پر راضی ہوں۔۔۔اپنے کاروبار کی پرموشن کریں۔۔۔ اپنی بھرپورکمپین چلائیں۔۔۔اپنا معیار بہتر سے بہتر کریں۔۔۔

تجارت کو سنت سمجھ کر کریں

گاہک کو قدرت کا تحفہ سمجھیں۔۔۔ ایمانداری کو اپنا شعار بنا لیں۔۔۔
ان شاء اللہ قدرت آپ کو چھپر پھاڑ کر رزق دے گی۔۔
کامیابی کی اصل خوشی تب ہے جب ہم دوسروں کی کامیابیوں پردل سے خوش ہوں گے ۔۔۔
ہم جو چیز اپنے لئے پسند کرتے ہیں، جس کامیابی کی خواہش کرتے ہیں اور جس چیز کی تمنا کرتے ہیں۔۔۔
اگر وہی چیز دوسرے کے لئے پسند کرنے لگ گئے، کسی کو کامیاب بنانے کے لئے محنت کرنے لگ گئے۔۔۔
تو سمجھ جائیں کہ اس دن کے بعد زندگی جینے کا مقصد خوبصورت اور شاندار ہوجائے گا، اور زندہ رہنے میں مزا آئے گا۔۔۔
کامیابی تو مل کر ہی رہے گی اور عروج پر تو پہنچ جائیں گے لیکن اپنے ساتھ دوسروں کے لئے کامیابی کا جشن منانے کا دل سے مزا آئے گا۔
اپنے آپ میں قابلیت اور صلاحیت پیدا کریں۔
آپ سے مقابلہ کرنے کے لئے لوگ کافی ہیں۔۔۔
اپنے آپ میں ہمت و حوصلہ پیدا کریں، حوصلہ شکنی اور مایوس کرنے کے لئے لوگ کافی ہیں۔۔۔
اپنے آپ میں خوبیاں اور اچھائیاں تلاش کریں، خامیاں نکالنے کے لوگ کافی ہیں۔۔۔
منزل کی طرف اپنے قدم آگے بڑھاتے جائیں، پیچھے کھینچنے کے لئے لوگ کافی ہیں۔
خواب اگر دیکھنے ہیں تو اونچے دیکھیں، نیچا دکھانے کے لئے لوگ کافی ہیں۔
جس دن انسان اپنے آپ کو جس فن اور علم میں استاد سمجھنا شروع کر دیتا ہے اس پر اس فن کو مزید سیکھنے کا دروازہ بند ہوجاتا ہے، علم کا اضافہ ختم ہوجاتا ہے، نئی راہیں کھلنا بند ہوجاتی ہیں، نئی معلومات اور جدت کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔
جب تک انسان اپنے آپ کو طالب علم اور سیکھنے والا سمجھتا رہتا ہے اس پر علم کا دروازہ کھلا رہتا ہے، علم کا اضافہ ہوتا رہتا ہے، علم کی نئی راہیں کھلتی ہیں، نئی معلومات اور جدت کا اضافہ ہوتا ہے اور بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔
اس لئے کہا گیا کہ انسان کو ماں کی گود سے قبر کے پیٹ سیکھتے رہنا ہے، اپنے آپ کو ہمیشہ سیکھنے والا بنانا ہے، جہاں سے بھی علم حاصل ہو اس کے حصول میں اپنی تمام تر صلاحیتیں لگانی چاہئے اور غنیمت سمجھ کر قدر کرنی چاہئے۔

Leave a Comment