ایک عالم پلمبر کیوں نہیں بن سکتا؟

ایک عالم پلمبر کیوں نہیں بن سکتا۔۔۔؟؟؟
یہ دن بھی آنا تھا کہ ایک عالم کو پلمبر،الیکٹریشن، درزی،ویلڈر بننے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔۔۔
علماء کی ایک مجلس میں اس موضوع پر بہت لمبی بحث ہوئی اور بات تلخ کلامی تک پہنچ گئی۔ ۔۔
ایک مشہور و معروف مناظر صاحب ہیں جن کی زندگی کا مقصد دوسروں کو علمی شکست دینا اور دوسروں کو نیچا دیکھانا ہے ان سے کچھ معاملات پر ملاقات ہوئی مجھے کہنے لگے کہ آپ کی تحریرں پڑھتا رہتا ہوں، یہ کیا ہے سب؟
مجھ سے پوچھا کہ آپ نے کیا مشن اپنایا ہوا ہےاپنی تحریروں میں علماء کو پلمبر، الیکٹریشن، درزی بن کر دنیا کمانے کی ترغیب دیتے ہو، یہ علماء کی شان ہے کہ وہ پلمبراور الیکٹریشن بنیں؟ استغفراللہ، اگر پلمبر بن کر دنیا ہی کمانی تھی تو پھر 8،10 سال مدرسے میں کیوں لگائے شروع سے ہی کام سیکھ لیتے۔۔۔
ایک عالم جب تعلیم حاصل کرنے مدرسے میں داخل ہوتا ہے تو اس کو سب معلوم ہوتا ہے کہ اس فیلڈ میں دنیاوی طور پر زیادہ کچھ حاصل نہیں ہوگا، تنخواہ زیادہ نہیں ہوگی، رہائش، کھانا پینا سب لائق گزارہ ہوگا پھر بھی وہ تعلیم حاصل کرتا ہے اور عالم بن جاتا ہے وغیرہ وغیرہ، کون سا عالم یا مدرس ہے جس نے معاشی رونا رویا ہو یا اس کے بچے اس برکت والی تنخواہ میں نہ پلتے ہوں،ایک عالم مدرس، امام کی تنخواہ بظاہر 8،10 ہزار روپے ہوتی ہے مگر اس میں اتنی برکت ہوتی ہے کہ ایک لاکھ روپے تنخواہ جتنی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں، اور بچے بھی پلتے ہیں، تم کیا جانو اس برکت کو۔۔۔
میں نے عرض کی حضرت پہلی بات تو یہ کہ معلوم نہیں آپ کس دنیا میں رہتے ہیں، حیرت اس بات کی ہے کہ دوسروں کو سادگی، قناعت، اور برکت کی ترغیب وہ لوگ دیتے ہیں جن کی اپنی زندگی میں ان تمام برکات، قناعت اور سادگی کا دور دور تک کوئی نام و نشان بھی نہیں، دوسروں کو ترغیب دینے والوں کی اپنی زندگی کسی لگزری اور ڈریم زندگی سے کم نہیں۔۔۔
دوسری بات آپ کے ایکڑوں اراضی پر پھیلے بنین و بنات کے مدرسے، عالی شان عمارتیں، زندگی کی تمام آسائشیں آپ کو فری میں حاصل ہیں،گندم، چاول، راشن وغیرہ آپ کا سب لگا لگایا ہے، سب فری میں مل جاتا ہے، گودام راشن و اناج سے بھرے ہوئے ہیں، آپ کے مریدین کو اللہ نے جگرا دیا ہوا ہے کہ وہ آپ پر بے تحاشا خرچ کرتے ہیں آپ کی اور آپ کی تینوں بیویوں اور سب بچوں کی تمام ضروریات آپ کے مرید پورا کرنے کو اپنی خوش بختی اور سعادت سمجھتے ہیں۔۔۔ آپ کو تو زبان ہلانے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی اور سب کچھ مل جاتا ہے، آپ کے آگے پیچھے دائیں بائیں تمام علماء، مناظرین اور آپ کے شاگردوں کو بھی آپ کے طفیل آپ کے نام پر بہت کچھ مل جاتا ہے تو آپ کو کیسے علم ہوگا کہ مسائل کدھر ہیں اور استحصال کہاں ہورہا ہے۔۔۔
حضرت آپ تھوڑی زحمت فرمائیں اس چاردیواری سے باہر کے دوسرے علماء اور دیندار طبقے کی حالت زار پر کبھی سرچ کریں کبھی بیٹھ کر حال احوال لیں تو علم ہوگا آپ کو کیا خبر مرغی پیشاب کہاں سے کرتی ہے۔۔۔
اصل مسئلہ عالم کے پلمبر بننے میں نہیں ہے اصل خرابی اس دماغ میں ہے جس میں عزت کا بھوت سوار ہے۔۔۔
سفید اجلے شفاف لباس پر کالی واسکٹ اور کلف شدہ پگڑی، بازو پرمہنگی امپورٹڈ گھڑی، انگلی پر چاندی سے مرصع انگوٹھی، ہاتھ میں دو دو مہنگے ترین موبائل سام سنگ ایس 10، اور آئی فون 11،مہنگی ترین پرفیوم سے مہکتا جسم، نئے ماڈل کی بہترین گاڑی جس کی مالیت کم سے کم 40 لاکھ ہے، آپ کے ایک ایک وقت کا کھانا 3،5 ہزار سے کم کا نہیں ہوتا، آپ کی اولاد کی شاہانہ زندگی دیکھ کر کسی بھی طور پر نہیں لگتا کہ یہ کسی خطیب یا امام کے بچے ہیں ان کی لگزری لائف دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ یہ کسی بیوروکریٹ یا وزیر کے بچے ہیں۔۔۔
حضرت یہ سب کچھ کیا آپ کا اپنا ہے؟ سچی بات تو یہ ہے کہ یہ سب آپ کو دین کے نام پر ملا ہے، جتنا خرچ آپ کی فیملی کا ایک دن کا ہے اتنی رقم میں دو چار گھروں کا پورے مہینے کا راشن آسکتا ہے۔آپ کے ہاتھ میں موجود دو لاکھ کے موبائل میں دو بندے برسرروزگار ہوسکتے ہیں۔۔۔ مگر آپ کو یہ سب کچھ کیسے معلوم ہوگا جب آپ کو اس زندگی کی ہوا بھی نہیں لگی آپ کی اولاد کو کبھی سرد گرم ہوا بھی نہیں ٹکرائی آپ کے مزے ہی مزے ہیں۔۔۔ آپ کی زندگی پر لوگ رشک کرتے ہیں کہ حضرت دنیا میں بھی موج مار رہے ہیں اور آخرت میں تو خیر سے یہ سب مریدین اور متعلقین کو پکڑ کر جنت لے جائیں گے۔۔۔
حضرت ایک تو یہ بتائیں کہ ان مناظروں مباحثوں سے آخر حاصل کیا ہوا ہے؟ کتنے لوگ ہیں جو آپ کے مناظروں سے راہ راست پر آچکے ہیں؟ معزرت کے ساتھ ان مناظروں مباحثوں کا مقصد دین کی خدمت نہیں بلکہ ایک دوسرے پر دلائل کی جنگ لڑکرفتح حاصل کرناہے، کسی مناظرے کا مقصد دوسرے کی اصلاح اور خیر خواہی نہیں بس اپنی فتح مقصود ہوتی ہے (الاقلیل)۔ جس انداز اور طریقوں سے مناظروں کا دنگل لڑا جاتا ہے کیا کوئی عام بندہ ان گالی گلوچ اور ایک دوسرے کی عزت کا کچرا کرنے کو دین کی خدمت سمجھ سکتا ہے؟
معزرت کے ساتھ کہوں گا حضرت۔۔۔ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنا، ایک دوسرے کو نیچا دیکھانا اور عزت کا کباڑہ کرنا دین کی خدمت اور اسلام کا مزاج اور رسول اللہ ﷺ کی سنت اور ان کے ماننے والوں کا شیوہ کبھی نہیں ہوسکتا۔
آپ اپنے طلباء اور شاگردوں کومخالفین سے دلائل سے بچھاڑنا اور فتح حاصل کرنے کے گُر سکھاتے ہیں،اپنی علمی کارگزاریاں اور مخالفین کی دُم دبا کر بھاگنے کے جو قصے سناتے ہیں ان سب سے آخر آپ کو اور آپ کے متعلقین کے علاوہ کسی اور انسان کو فائدہ ہوا ہوتو اس کا نام ضرور بتائیں۔ اپنے طلباء اور شاگردوں کا زندگی کا مقصد ہی مناظربنانا ہے توپھر میرے موقف کی مخالفت کرنا آپ کا حق بنتا ہے۔۔۔
اپنے اندر سے عزت اور قدر کروانے کی سوچ نکال دیں، اللہ نے اگر علم دیا ہے، بے پناہ صلاحیتیں دی ہیں تو اس میں تکبر اور اکڑنے کی کیا ضرورت ہے، اور اس سوچ سے حاصل کیا ہوگا؟
جس علم پر، ذہانت اور صلاحیتیوں پر اتنا غرور اور فخر ہے اللہ کی قسم اگر دماغ کی ایک رگ بھی شاٹ ہوجائے نا تو پھر یہی جبہ و دستار اور منصب نالی سے گند اٹھا کرکھانے کو بھی نہیں روک سکتی، اپنے آس پاس نظر دوڑائیں کیسے کیسے حسین نوجوان ، صاحب علم وہنر اور صلاحیتیوں والے رُل رہے ہیں۔۔۔
اس لئے اپنے علم پر کبھی غرور اور تکبر کرنے کی سوچ آئے تو قبرستان، ہسپتال، اور کسی پاگل خانے جا کر دیکھ لیں کہ ہم سے زیادہ ذہین فطین لوگوں کی زندگیاں کیسے فنا ہورہی ہیں
اپنے علم کے بل بوتے پر دوسروں کو بچھاڑ کر جیت کی خوشیاں منانے سے کبھی آپ کو زندگی میں سکون حاصل نہیں ہوسکتا۔۔۔
حضرت آپ کو کیا خبر ہو کہ قرآن کے ایک استاد کی تنخواہ آج اس دور میں بھی 7،8 ہزار ہے، جس کے دو تین بچے بھی ہیں، ایسے سینکڑوں ممتاز علماء اورمفتیان کرام جو مدارس میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں جن کی تنخواہیں 10،12 ہزار ہیں،آپ کے عیاش صاحب زادوں کے ایک دن کا خرچ اور ان جیدممتاز علماء کی پوری مہینے کی تنخواہ سے بھی زیادہ ہے۔۔۔
میری کسی ایک تحریر میں دکھائیں، کسی ایک مجلس میں کبھی کہا ہو کہ علماء، آئمہ اپنا منصب چھوڑ کر تجارت کرنے لگ جائیں۔ ۔۔
میری تو ترغیب یہ ہے کہ علمائے کرام، ائمہ حضرات اپنے منصب کے ساتھ ساتھ کوئی ہنر، کوئی تجارت، کوئی پیشہ بھی اپنائیں تاکہ ان کی زندگی سے معاشی تنگی اور پریشانیوں کا ازالہ ہوسکے۔
روالپنڈی کے ایک مدرس جس کو ایک ادارے میں پڑھاتے ہوئے 8،10 سال ہوگئے اس کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں تھے کہ ہسپتال میں اپنی بیوی کے علاج کے تین ہزار دے کر گھر لے جائے۔۔۔
یہ ایک دو نہیں سینکڑوں علماء اور مدرسین کی زندگیوں کے درد ناک پہلو ہیں۔۔۔
خود سوچیں اور فیصلہ کریں کہ ایک مدرس جس کی کل تنخواہ 10،12 ہزار ہے، 4،5 بچے ہیں، خدانخواستہ اس کے گھر میں کوئی پریشانی پیش آجائے، بچہ بیمار ہوجائے، کوئی حادثہ پیش آجائے تو وہ کیا کرے گا؟۔۔۔
ظاہر ہے وہ اپنے مقتدیوں یا متعلقین سے قرض اٹھائے گا، اور پھر یہ قرض اتارے گا کیسے جب کہ اس کی زندگی میں صرف چولہے کا خرچ ہی پورا ہوجانا کسی نعمت عظمیٰ سے کم نہیں۔۔۔
آپ کے نزدیک عالم پلمبر اور الیکٹریشن نہیں بن سکتا لیکن وہ مقروض بن سکتا ہے، چندے اور ضروریات مانگ کر معاشرے کا مبغوض ترین شخص بن سکتا ہے۔۔۔
اگر ایک عالم پلمبر کا کام کر کے الیکٹریشن کا کام کر کے اپنی اولاد کو حلال کھلارہا ہے، ان کی بہتر طریقے سے پرورش کر رہا ہے،اپنے ہاتھ سے حق حلال کما رہا ہے تو اس کی شان اس پیر یا بزرگ سے کیسے کم ہوسکتی ہے جس کا سارا دارومدار ہی چندے اور دوسروں کے سہارے ہے۔۔۔
حضرت یا تو ادارے اتنے مضبوط ہوجائیں کہ عالی شان عمارتوں، شاہانہ زندگی ترک کر کے اپنے متعلقین کی جائز ضروریات کو پورا کرنے والے بن جائیں، اپنے اساتذہ کی تنخواہیں بڑھا کر ان کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کر دیں، ایک مدرس جس کے ساتھ 5،6 زندگیاں اور بھی منسلک ہیں ان کی ضروریات کے بقدر معاوضے دینے والے بن جائیں تو کیا ہی بہترین اور لاجواب عمل ہوجائے۔۔۔
جس دن وہ مہتممین حضرات جو خود لگزری اور شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں وہ اپنے اساتذہ اور متعلقین کی زندگیوں میں بھی آسانیاں پیدا کرنے والے بن گئے، ان کی تمام ضروریات کو پورا کرنے والے بن گئے اس دن اس دنیا میں انقلاب آجائے گا۔۔۔
جب یہ سب کچھ نہیں ہونا تو پھر ہماری ترغیب سے کیا مسئلہ ہے کہ ایک عالم ، مدرس، اور امام صاحب فارغ اوقات میں کوئی تجارت کرے یا کوئی ہنر سیکھ کر کمانے والا بن جائے ۔۔۔
ــــــــــــــــــــ
وہ علماء،آئمہ مساجد، مدرسین حضرات جو حالات کا شکار ہیں، جو معاشی طورپرتنگدست ہیں، اپنے مستقبل کے لئے پریشان ہیں،اور وہ علماء جو ابھی فارغ التحصیل ہوئے ہیں، وہ طلباء جو آخری درجات میں ہیں ان سے گزارش ہے۔۔۔
خدارا اپنی حیثیت پہچانیں، اپنے اندر موجود صلاحیتیوں کی قدر کریں، تنہائی میں بیٹھ کر اپنی زندگی کا جائزہ لیں، اپنی خدادا صلاحیتیوں پر غور وفکر کریں،اور اپنے لئے خود ہی کچھ کرنے والے بنیں، دوسروں کے سہاروں پر فیصلے کرنے اور امیدیں لگانا چھوڑ دیں، دنیا کا کون سا کام ہے جو آپ نہیں کر سکتے۔۔۔
اپنی زندگی کو دوسروں کے لئے آسانیاں پیدا کرنے والا بنائیں، اپنے آپ کو کارآمد بنائیں، اپنے اوقات کی قدر کر کے اس کا صحیح مصرف تلاش کر کے اس میں صلاحیتیں لگائیں۔۔۔
اپنے ادارے اور مہتممین کی غیبتیں اور برائیاں کرنے کے بجائے خود کچھ کرنے والے بن جائیں۔۔۔
اپنے معاشی حالات پر رونے کڑھنے کے بجائے اپنے حالات سدھارنے کی سوچیں۔۔۔
کوئی پلان بناکر اس پر کاربند ہوجائیں، کسی چیز کا عزم کر کے اس پر ثابت قدمی سے جم جائیں۔۔۔
کوئی ہنر اور فن سیکھیں، اپنی دینی مصروفیات کے ساتھ کوئی تجارت بھی کریں۔۔۔
ان شاء اللہ بہترین اور شاندار زندگی ہوگی۔۔۔
(کچھ ردوبدل کے ساتھ یہ تحریر دوسری بار شئیر کر رہا ہوں)

1 thought on “ایک عالم پلمبر کیوں نہیں بن سکتا؟”

Leave a Comment